22 اگست 2026 - 23:33
ڈونلڈ ٹرمپ بھاری قرض اورجنگ کے بھنور میں

امریکی حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ہر سال بھاری قرضے لیتی ہے، مگر اب قرضوں پر سود کی شرح بڑھنے سے یہ قرضے مہنگے پڑنے لگے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ایک سنگین چیلنج بن گئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بانڈ مارکیٹ کو سپورٹ کرنے کے لئے امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنے بانڈ کی دوبارہ خریداری کا حجم دوگنا کر کے $4 بلین فی آپریشن کر دیا ہے۔ حکومت کا مقصد مارکیٹ سے بانڈز خرید کر لیکویڈیٹی میں اضافہ کرنا ہے اور بانڈ کی شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بانڈز پر سود کی شرح ہی دراصل حکومت کی قرض لینے کی لاگت ہوتی ہے؛ شرح جتنی زیادہ ہوگی، حکومت کو قرضوں پر اتنا ہی زیادہ سود دینا پڑے گا۔

مورخہ 31 جولائی کو 30 سالہ امریکی بانڈز کی شرح سود 5.27 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب فیڈرل ریزرو نے سود کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی، جبکہ سال کے شروع میں مارکیٹ کو شرح کم ہونے کی توقع تھی؛ یہی نہیں بلکہ اب تو شرح میں اضافے کا امکان بھی سننے میں آ رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے بھی بانڈز مارکیٹ پر دباؤ بڑھا ہے۔

دوسری طرف امریکی حکومت کو شدید بجٹ خسارے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ مسلسل نئے بانڈز جاری کر رہی ہے۔ جب قرضوں کی فراہمی بہت زیادہ ہو اور سرمایہ کار شرحیں بڑھنے کی توقع رکھتے ہوں، تو حکومت کو خریداروں کو راغب کرنے کے لئے زیادہ سود دینا پڑتا ہے۔

اس لئے محکمۂ خزانہ پرانی اور کم چلنے والے بانڈز خرید کر مارکیٹ میں ایک مستحکم خریدار کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاکہ بانڈز کی فروخت آسان ہو اور سود کی شرح بڑھنے کا دباؤ کم ہو۔ یہ 4 ارب ڈالر کی خریداری 9 ستمبر سے 4 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔

امریکی حکومت کی اس پریشانی کی اصل وجہ قرضوں کا بہت بڑا بوجھ ہے؛ گذشتہ 12 مہینوں میں اس نے صرف سود پر 1.4 ٹریلین ڈالر ادا کئے ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2028 تک یہ رقم بڑھ کر 1.7 ٹریلین ڈالر سالانہ ہو جائے گی۔ اگر 5 سالہ بانڈز کی شرح 3.25 فیصد تک نہ گرے تو یہ لاگت مزید بڑھ جائے گی۔

یہ مسئلہ صرف امریکی حکومت تک محدود نہیں بلکہ بانڈز کی شرحیں قرضوں، گھریلو رہن سہن اور دیگر مالی سہولیات کی بنیاد ہوتی ہیں، اسی لئے اس میں اضافے سے عام لوگوں اور کمپنیوں پر بھی بوجھ پڑے گا، اور امریکہ میں گھریلو قرضوں کی شرح 7 فیصد سے بھی تجاوز کر ے کی۔

خلاصہ یہ کہ امریکی بانڈز مارکیٹ معیشت کا اہم ترین دباؤ کا نقطہ بن گئی ہے، اور محکمۂ خزانہ کی خریداری دو گنا کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لئے پہلے سے زیادہ شدت سے کوشاں ہے اور اس بار کامیابی کے امکانات پہلے سے کم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha